Monday, July 6, 2009

786کی حقیقت

786 بسم اللہ کا متبادل نہیں
علم الا عداد کے جاننے والے اور اس کا استعمال کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ 786کے اعداد بسم اللہ الرحم ن الرحیم کے متبادل ہیں۔ یہ بدعت کہاں سے آئی یا اس کی ابتدا کس نے کی ۔ یہ تو معلوم نہیں البتہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ 786کے اعداد بسم اللہ الرحمن الرحیم کامتبادل ٹھہرانا حضورؐ کی سنت کے خلاف ہے ۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اپنی تحریر کے اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے سے بے حرمتی کا مرتکب ہو گا ۔ لہذا 786 کو اس کے متبادل کے طور پر استعمال کرے تو اسے چاہیے کہ وہ کچھ لکھنے سے پہلے زبانی طور پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لے جیسا کہ ہم ہر کام شروع کرنے سے پہلے کرتے ہیں۔
بد قسمتی سے ہمارے نام نہاددینی اسکالرز اور محققین نے بھی اس اہم چیز کو تواتر سے نظر انداز کیا ہے ۔آپ مجھے یہ بتائیں کہ آیا ہم یہ اعدادی عمل کہیں قرآن مجید میں بھی دیکھتے ہیں ،کیا آپ سورۃ فاتحہ کی پیشانی سے بسم اللہ ارحمٰن الرحیم حذف کر کے وہاں 786لکھ سکتے ہیں ؟حضو ر اکرمؐ نے جو خطوط مختلف سلطنتوں کے غیر مسلم حکم رانوں کو لکھے ان کی ابتدا ہمیشہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھ کر ہی کی ہے (وہ خطوط اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں )انہوں نے کوئی متبادل طریقہ استعمال نہین کیا نہ ہی اس کی حر مت کے بارے میں سوچا۔اسی طرح کچھ لوگ اللہ لکھنے کے بجائے66لکھ دیتے ہیں اور محمد کے بدلے 92لکھ دیتے ہیں !!!کسی کو اس کے
Nick nameسے بلانا گناہ ہے ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے کسی کو اس کے Nick nameسے نہیں پکارو، اگر اللہ سبحانہٗ و تعالٰی کسی انسان کو اس کے نک نیم سے پکارنے سے منع فرماتا ہے تو وہ کیوں کر اپنے بندوں کو اس قبیل کے ہتک آمیز متبادل ، اپنے لیے اور اپنے حبیب کے لیے استعمال کرنا پسند فرمائے گا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بے حد اہمیت کا حامل ہے ، اسی لیے تمام مسلمانون کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے ہر کام کی ابتدا بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کرو ۔۔۔۔۔۔نہ کہ اس کے متبادل اعدا دسے!!!!
قارئین کرام!اصل بات یہ ہے کہ جب ضعیف العقیدہ لوگوں نے کفار سے غیر اللہ چیزوں اور لوگوں سے ڈرنا سیکھا اور ان کے نحس و سعد اثرات پر ایمان لے آئے تو ان کے تدارک کے لیے جادو ٹونے اور تعویز گنڈوں کا سہارا لیا، اب چونکہ بنیادی طور پر یہ مسلما ن ہیں لہذا اپنی عملیات اور تعویز نویسی کیلئے قرآنی آیات اور اسمائے ربانی کا استعمال شروع کر دیا،چونکہ مسلمان ہونے کے ناتے یہ کافروں کے اشلوک میں یا ان کی دیوی دیوتائوں کے نام تو استعمال نہیں کر سکتے تھے ، پھر ان کے ذہن میں آیا کہ آیات قرآنی اور اسمائے ربانی اپنے تعویزوں میں لکھ کر کہیں بے حرمتی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟لہذا انہوں نے علم الاعدادترتیب دیا اور ہر لفظ کے متبادل اعداد بنا لیے اس طرح تمام تعویز گنڈے اعداد میں
لکھے جانے لگے، اس طرح انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے اعداد بھی 786نکال لیے ۔ اس طرح عام لوگوںمیں بھی 786 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا متبادل مروج ہو گیا ۔لیکن افسو س صد افسوس کہ ان پیشہ ور تعویز گنڈے والوں نے کبھی یہ نہیں دیکھا یا سوچا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے لیے بنائے ہوئے متبادل اعداد 786ہندوئو ں کے بھگوان ،ہری کرشنا ، کے اعداد کے برابر ہیں،یعنی 786،اب آپ یہ بتائیں کہ آیااللہ تعالٰی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بدلے بندوں کے بنائے ہوئے ایسے اعداد پسند فرمائے گا جو مشرکوں کے بھگوان ہری کرشنا کے بھی ہیں؟!!

786کی حقیقتSocialTwist Tell-a-Friend

0 تبصرہ جات:

Post a Comment