Tuesday, August 4, 2009

بدبو دار پھول





علم نباتات کے ایک ماہر ڈاکٹرآرنلڈ 20 اگست 1820 کے دن انڈو نیشیا کے ایک جزیرے سماٹرا پر اپنے باغات میں گھومتے ہوئے اس وقت حیران اور ششدر رہ گئے جب ا ن پر ایک ایسے پھول دار پودے کاانکشاف ہوا جو اپنی ساخت اور ظاہری شکل سے بالکل انوکھا حجم میں بہت بڑا اور عجیب وغریب تھا۔ آج وہ پھول دار پودارافلیشیا آرنلڈی نام سے جانا جاتا ہے یہ عجیب و غریب پھول دنیا کا سب سے بڑا پھول ہے رافلیشیاآرنلڈی کا قطر تقریبا ایک میٹر یعنی تقریبا تین فٹ اوراس کا وزن تقریبا 12 سے 17پاؤنڈ یعنی 5سے8 کلو گرام تک ہوتا ہے ۔انڈونیشیا کے مقامی باشندے اس کو شیطان کاپیالہ بھی کہتے ہیں یہ ایک طفیلی پودے پر اگتا ہے یعنی یہ پھول بڑے درختوں اورپودوں کی خوراک حاصل کر کے بڑھتا پھولتا ہے کلی کے نکلنے سے پھول بننے تک اسے تین ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے اور اس کی طبعی عمر بھی صرف تین مہینے ہوتی ہے۔

یہ امتیازی خصوصیات کا مالک پھول ہے جس کی پنکھڑیاں سرخ رنگ کی ہوتی ہیں مگر ان کے اوپر بدنما گومڑ نکلے ہوئے ہوتے ہیں اپنی بھدی شکل و صورت کے سا تھ ساتھ اس پھول کی انوکھی بات اس کی بدبو ہے۔ پھول خوشبو دیتے ہیں مگر یہ بدبو دیتا ہے وہ بھی ایسی کہ جیسےسرانڈ والا گوشت پڑا ہو۔گندی مکھیاں اس کی بدبو بہت پسند کرتی ہیں ور برابر اس کے چکر کاٹتی رہتی ہیں۔اس پر بیٹھ کو انڈے دیتی ہیں یہ دنیا کا واحد پھول ہے جو مکھیوں کا پسندیدہ اور گندی جگہ میں پلنے والےکیڑوںمکوڑوں کی آماجگاہ ہے۔

بدبو دار پھولSocialTwist Tell-a-Friend

0 تبصرہ جات:

Post a Comment