Tuesday, July 14, 2009

فی صد

ہمیں امتحان میں پاس ہونے کیلئے 33فیصد نمبر درکار ہوتے ہیں یعنی اگر تین سوالوں میں سے ایک کا جواب صحیح ہو تو ہم معیار پر پورے اترتے ہیں اور کامیاب قرار دیے جاتے ہیں ۔ مثلا ہمارے سامنے ایک الو بٹھا دیا جائے اور پوچھا جائے کہ یہ کیا ہے؟ہم کہ دیں کہ یہ خر گوش ہے تو ہمیں دوبارہ سوچنے کا موقع دیا جاتا ہے پھر ہم کہ دیں کہ یہ قمری ہے ۔ہمیں ایک موقع اور ملتا ہے اور ہم تیسری مرتبہ کہ دیں کہ یہ کچھ الو نما پرندہ ہے جس کی ہر بات سے الو پن ٹپکتا ہے تو ہم پاس ہو جاتے ہیں۔ اب فیصد یہ کو لے لیجیے۔ہر روز پڑھتے ہیں کہ یہاں دس فیصد کمزور ہیں اس کلاس میں پندرہ فیصد بچے بیمار ہیں اچھا اب فرض کیجیے کہ ایک مکان میں دس آدمی رہتے ہیں ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے آس پاس میں کوئی ریاضی دان ہو تو فورا حساب لگا کر بتا دے گا کہ اس مکان میں جو نو آدی ہیں ان میں سے ہر ایک کا دس فیصد انتقال ہو چکا ہے اور جس غریب کا انتقال ہوا ہے وہ نوے فیصد تن درست ہے۔
شفیق الرحمن کی لہریں سے اقتباس

فی صدSocialTwist Tell-a-Friend

0 تبصرہ جات:

Post a Comment